لوڈشیڈنگ میں EV چارجنگ: بجلی جائے تو گاڑی کیسے چارج ہو؟

"لائٹ چلی گئی تو گاڑی کا کیا ہو گا؟" الیکٹرک گاڑی کے بارے میں پاکستان میں شاید سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جاتا ہے۔ سوال جائز ہے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی شام کا پروگرام لوڈشیڈنگ کا شیڈول دیکھ کر بنایا ہے، اور الیکٹرک گاڑی بظاہر ایک اور چیز لگتی ہے جو بجلی کی محتاج ہے۔
تسلی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مالکان کے لیے لوڈشیڈنگ میں EV چارجنگ ایک جھنجھٹ ضرور ہے، مگر ایسی رکاوٹ نہیں کہ گاڑی ہی نہ لی جائے۔ رات کو چارج ہونے والی گاڑی کو پوری رات بجلی نہیں چاہیے، اور اکثر لوگ روز بیٹری کا تھوڑا سا حصہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اصل کام دو ہیں: اپنے علاقے کا لوڈشیڈنگ کا پیٹرن جاننا، اور برے دن کے لیے ایک بیک اپ رکھنا۔
آپ کی گاڑی کو روز کتنی بجلی چاہیے؟
پلان اپنے حساب سے شروع کریں، خبروں سے نہیں۔
زیادہ تر الیکٹرک گاڑیاں ملی جلی ڈرائیونگ میں تقریباً 15 سے 19 kWh فی 100 km استعمال کرتی ہیں، اور گرمیوں میں AC کے ساتھ کچھ زیادہ۔ فرض کریں آپ روز 50 km چلاتے ہیں۔ یہ تقریباً 8 سے 9 kWh بنتا ہے۔ چارجنگ میں ہونے والے نقصان کو ملا کر میٹر سے تقریباً 10 یونٹ لگیں گے۔ گھر کے 7 kW چارجر پر یہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہے، اور گاڑی کے ساتھ آنے والی 2.2 kW کی پورٹیبل کیبل پر تقریباً ساڑھے چار گھنٹے۔ مزید حساب ہماری چارجنگ ٹائم گائیڈ میں ہے۔
اب اسے اپنی لوڈشیڈنگ کے ساتھ رکھ کر دیکھیں۔ اگر شام کو دو تین گھنٹے بجلی جاتی ہے اور آدھی رات سے پہلے آ جاتی ہے تو صبح تک آپ کے پاس پانچ چھ گھنٹے کی سپلائی ہے۔ روز کے ٹاپ اپ کے لیے یہ کافی ہے، سست کیبل پر بھی۔
مشکل انہیں ہوتی ہے جو بیٹری بالکل نیچے لا کر ایک ہی رات میں پوری بھرنا چاہتے ہیں۔ روز تھوڑا تھوڑا بھرنا کہیں آسان ہے۔

آپ کے علاقے میں کتنی لوڈشیڈنگ ہے؟
یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کہاں رہتے ہیں، بلکہ اس پر بھی کہ آپ کی گلی کس فیڈر پر ہے۔
اپریل 2026 میں وفاقی حکومت نے "پیک ریلیف" پلان کا اعلان کیا، جس میں شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے پیک اوقات میں روزانہ تقریباً ڈھائی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ رکھی گئی۔ یہ K-Electric اور HESCO کے علاقوں کے سوا ملک کے زیادہ تر حصوں کے لیے تھا (The News، اپریل 2026)۔ شیڈول سال بھر بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس عدد پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی DISCO کا تازہ شیڈول دیکھیں۔
زیادہ لاسز والے علاقوں میں حال کہیں برا ہے۔ فروری 2026 میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ملک کے 12,665 فیڈرز میں سے 2,000 سے زیادہ پر روزانہ دس گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی، زیادہ تر QESCO، PESCO اور SEPCO کے علاقوں میں، جبکہ LESCO، IESCO، GEPCO اور FESCO کا کوئی فیڈر دس گھنٹے سے اوپر نہیں تھا (The News، فروری 2026)۔ اسی مہینے وزیر توانائی نے سینیٹ کو بتایا کہ لوڈشیڈنگ کے گھنٹے ہر فیڈر کے لاسز اور ریکوری کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں (APP، فروری 2026)۔
یعنی لاہور کے DHA میں رہنے والے اور پشاور کے کسی زیادہ لاسز والے علاقے کے ڈرائیور کا گرڈ ہی الگ ہے، اس لیے دونوں کا چارجنگ پلان بھی الگ ہو گا۔
فیصل آباد اور مردان: دو مثالیں
فیصل آباد کا ایک گھرانہ لے لیں جو ہفتے کے دنوں میں تقریباً 45 km چلاتا ہے اور زیادہ تر شاموں کو دو گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ وہ گھر پہنچ کر پلگ لگا دیتے ہیں اور گاڑی کا ٹائمر آدھی رات پر سیٹ ہے۔ 7 kW وال باکس پر تقریباً 9 یونٹ ایک گھنٹہ 20 منٹ میں پورے ہو جاتے ہیں، یعنی رات ڈیڑھ بجے سے پہلے دن بھر کی ڈرائیونگ بیٹری میں واپس۔ جس رات بجلی 2 بجے تک نہ آئے، تب بھی کئی گھنٹے بچ جاتے ہیں۔

اب مردان کے کسی زیادہ لاسز والے علاقے کی ایک ڈاکٹر کو لیں جو روز 90 km چلاتی ہیں اور جن کی بجلی رات کا بڑا حصہ غائب رہتی ہے۔ ان کے لیے صرف گھر کی چارجنگ کافی نہیں ہو گی؛ انہیں ہسپتال کے پاس کوئی چارجر یا راستے میں کوئی ہوسٹ چاہیے۔ اگر آپ کے ہاں ایسی راتیں معمول ہیں اور آپ نے ابھی گاڑی نہیں لی تو Haval H6 PHEV (انگریزی) جیسی پلگ اِن ہائبرڈ پر بھی غور کریں، کیونکہ بیٹری ختم ہونے پر اس کا پیٹرول انجن کام سنبھال لیتا ہے۔
ٹائمر لگائیں اور بجلی آنے کے لمحے سے ہوشیار رہیں
زیادہ تر الیکٹرک گاڑیوں میں اسکرین یا ایپ سے چارجنگ کا وقت سیٹ ہو جاتا ہے۔ یہ وقت شام کی معمول کی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بعد کا رکھیں۔
اس سے بار بار رکنے چلنے سے جان چھوٹتی ہے، اور اگر آپ کے ہاں ٹائم آف یوز میٹر ہے تو رات دیر کی چارجنگ آف پیک اوقات میں آتی ہے، جن میں فی یونٹ ریٹ کم ہوتا ہے۔ وال باکس میں بھی ٹائمر ہو تو ایک ہی استعمال کریں، ورنہ دونوں آپس میں الجھیں گے۔
لوڈشیڈنگ کے بعد دیکھ لیں کہ چارجنگ دوبارہ شروع ہوئی یا نہیں۔ زیادہ تر وال باکس بجلی آنے پر خود چل پڑتے ہیں، لیکن کچھ ایپ میں ٹیپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ یہ کسی فارغ دن آزمائیں، اس صبح نہیں جب چھ بجے نکلنا ہو۔
بجلی آنے کا لمحہ اکثر جھٹکے والا ہوتا ہے، وولٹیج سنبھلنے سے پہلے اوپر نیچے ہوتا ہے۔ اچھا وال باکس اپنی پروٹیکشن کے ساتھ مستحکم وولٹیج کا انتظار کرتا ہے۔ اپنے الیکٹریشن سے پوچھیں کہ آپ کے ڈسٹری بیوشن بورڈ میں سرج پروٹیکشن ہے یا نہیں۔ پورٹیبل کیبل استعمال کرتے ہیں تو اسے صحیح وائرنگ والے ساکٹ میں لگائیں، سستے ایکسٹینشن بورڈ میں نہیں۔ ٹھیک سیٹ اپ گھر پر EV چارجر لگوانے کی گائیڈ میں ہے، اور مون سون کے خطرے بارش میں چارجنگ (انگریزی) میں۔
انورٹر یا جنریٹر سے گاڑی چارج ہو سکتی ہے؟
انورٹر سے کبھی کبھار، اور وہ بھی آہستہ۔
گھریلو انورٹر گھر کے حساب سے لیے جاتے ہیں، گاڑی کے حساب سے نہیں۔ دکانوں کی لسٹنگز میں عام ہائبرڈ انورٹر تقریباً 4 سے 8 kW کے ہیں۔ ایک دکان نے 6 kW کا Sungrow 2 لاکھ 37 ہزار روپے اور 8 kW والا ماڈل 3 لاکھ 7 ہزار روپے میں لسٹ کیا تھا (PowerHouse Express لسٹنگ)۔ اکیلا 7 kW وال باکس ہی ان میں سے زیادہ تر کو اوورلوڈ کر دے گا، پنکھے اور بتیاں تو الگ رہیں۔
2.2 kW کی پورٹیبل کیبل الگ معاملہ ہے: بڑا انورٹر اسے گھر کے ہلکے لوڈ کے ساتھ چلا لے گا، اور تب حد آپ کا بیٹری بینک بنتا ہے۔ ایک عام 5 kWh لیتھیم بیٹری 2.2 kW کے لوڈ پر دو گھنٹے سے کچھ زیادہ میں خالی ہو جائے گی۔ اس سے گاڑی میں شاید 25 سے 30 km کی رینج آئے گی اور گھر کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ زیادہ تر راتوں میں پنکھے اس سے زیادہ ضروری ہیں۔
دن میں سولر کے ساتھ انورٹر سے چارجنگ کہیں زیادہ کارآمد ہے، مگر وہ الگ سیٹ اپ ہے، جس کی تفصیل سولر سے EV چارجنگ (انگریزی) میں ہے۔ کچھ گاڑیاں الٹا گھر کی مدد بھی کرتی ہیں: BYD Sealion 7 (انگریزی) میں vehicle-to-load (V2L) ہے، جس سے لوڈشیڈنگ میں فریج اور کچھ بتیاں چل سکتی ہیں۔
جنریٹر کا کیا؟
بہت سے وال باکس غیر مستحکم وولٹیج اور فریکوئنسی پر حساس ہوتے ہیں، اور چھوٹے پیٹرول جنریٹر اکثر یہی دیتے ہیں۔ کچھ چارجر شروع ہی نہیں ہوں گے، کچھ شروع ہو کر ٹرپ کر جائیں گے۔ اوپر سے جنریٹر کی بجلی وہ بچت ہی ختم کر دیتی ہے جس کے لیے الیکٹرک گاڑی لی تھی۔ بڑا اور اچھا جنریٹر ہو اور آزمانا ہو تو پہلے چارجر کمپنی کی ہدایات دیکھیں۔ زیادہ تر مالکان یہ کرتے ہی نہیں۔
جب گھر کی بجلی ساتھ نہ دے: دوسرے علاقے کا چارجر
کبھی لمبی لوڈشیڈنگ، کبھی فیڈر کی خرابی، اور کبھی وہ ٹرانسفارمر جو دوپہر سے "ٹھیک ہو رہا ہے"۔
ایک ہی شہر میں بھی سپلائی ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی، اور دو سیکٹر دور کسی چارجر پر بجلی ہو سکتی ہے جب آپ کے ہاں نہ ہو۔ یہاں پبلک چارجر یا EVDost کا کوئی ہوسٹ کام آتا ہے۔ ہوسٹ اپنے گھر یا کاروبار کے چارجر اپنے فی گھنٹہ ریٹ کے ساتھ لسٹ کرتے ہیں، اور بلنگ 10 منٹ کے بلاکس میں ہوتی ہے، اس لیے چھوٹے سے ٹاپ اپ پر اتنا ہی خرچ آتا ہے جتنی دیر چارجر استعمال کریں۔ درخواست صرف اسی چارجر کو جاتی ہے جو اس وقت کھلا ہو، اور ہوسٹ کے پاس قبول کرنے کو 15 منٹ ہوتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ گھر اور دفتر کے قریب ایک دو چارجر ضرورت پڑنے سے پہلے ہی ایپ میں دیکھ رکھیں۔
باہر کا ٹاپ اپ گھر کے مقابلے میں کتنا پڑتا ہے، اس کے اعداد ہماری EV چارجنگ کے خرچ والی گائیڈ میں ہیں۔
لوڈشیڈنگ میں EV چارجنگ کا روز کا معمول
- عام دنوں میں بیٹری تقریباً 30 سے 80 فیصد کے بیچ رکھیں، تاکہ ایک بری رات آپ کو پھنسا نہ دے۔
- چارجنگ کا ٹائمر شام کی معمول کی لوڈشیڈنگ کے بعد کا رکھیں۔
- صبح دیکھ لیں کہ گاڑی چارج ہوئی یا نہیں۔
- ضرورت سے پہلے دو بیک اپ معلوم رکھیں: قریب کا کوئی ہوسٹ اور روز کے راستے پر کوئی پبلک چارجر۔
- لمبے سفر، مثلاً M-2 پر اسلام آباد جانے سے پہلے، گاڑی ایک رات پہلے چارج کریں، اسی صبح نہیں۔
لوڈشیڈنگ میں EV چارجنگ مشین سے زیادہ عادت کا معاملہ ہے۔ ایک دن آگے کا سوچ کر چارج کرنا عادت بن جائے تو شاید اس پر اتنا وقت بھی نہ لگے جتنا کبھی پیٹرول پمپ کی قطار میں لگتا تھا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا لوڈشیڈنگ کے دوران الیکٹرک گاڑی چارج ہو سکتی ہے؟
لوڈشیڈنگ کے دوران الیکٹرک گاڑی چارج نہیں ہوتی، الا یہ کہ آپ کا بیک اپ یہ لوڈ اٹھا سکے۔ مگر زیادہ تر مالکان کو دن بھر کی ڈرائیونگ کے لیے رات میں ایک سے چار گھنٹے کی سپلائی کافی ہے، اس لیے شام کی عام لوڈشیڈنگ مسئلہ کم اور جھنجھٹ زیادہ ہے۔ اپریل 2026 کے پلان میں K-Electric اور HESCO کے سوا زیادہ تر علاقوں میں پیک اوقات کی لوڈشیڈنگ روزانہ تقریباً ڈھائی گھنٹے رکھی گئی تھی، مگر شیڈول بدلتے رہتے ہیں۔ گاڑی کا ٹائمر لوڈشیڈنگ کے بعد کا رکھیں۔
روز کی ڈرائیونگ کے لیے گاڑی کتنی دیر میں چارج ہوتی ہے؟
زیادہ تر چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں 50 km میں تقریباً 8 سے 9 kWh خرچ کرتی ہیں۔ چارجنگ کا نقصان ملا کر یہ 7 kW وال باکس پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ اور 2.2 kW پورٹیبل کیبل پر تقریباً ساڑھے چار گھنٹے بنتا ہے۔
کیا گھر کے انورٹر یا UPS سے گاڑی چارج ہو سکتی ہے؟
7 kW وال باکس زیادہ تر گھریلو انورٹرز کو اوورلوڈ کر دے گا، جو عموماً 4 سے 8 kW کے ہیں اور پہلے ہی گھر چلا رہے ہوتے ہیں۔ 2.2 kW کیبل بڑے انورٹر پر چل سکتی ہے، مگر 5 kWh بیٹری دو گھنٹے سے کچھ زیادہ میں ختم ہو گی، گاڑی میں صرف 25 سے 30 km آئیں گے اور گھر کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔
کیا جنریٹر سے الیکٹرک گاڑی چارج کرنا ٹھیک ہے؟
جنریٹر سے الیکٹرک گاڑی چارج کرنے کا فائدہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ بہت سے وال باکس چھوٹے جنریٹرز کے غیر مستحکم وولٹیج پر شروع ہی نہیں ہوتے، اور جنریٹر کی بجلی الیکٹرک گاڑی کی بچت کا بڑا حصہ ختم کر دیتی ہے۔ آزمانے سے پہلے چارجر کمپنی کی ہدایات دیکھیں۔
بجلی نہیں ہے اور گاڑی کی بیٹری کم ہے، اب کیا کروں؟
بجلی نہ ہو اور بیٹری کم ہو تو کسی ایسے علاقے میں چارجر ڈھونڈیں جہاں بجلی آ رہی ہو۔ سپلائی فیڈر کے حساب سے بدلتی ہے، اس لیے چند سیکٹر دور کوئی پبلک یا ہوسٹ کا چارجر چل رہا ہو سکتا ہے۔ گھر اور دفتر کے قریب ایک دو چارجر پہلے سے معلوم رکھیں۔
ذرائع
- The News، پیک ٹائم لوڈشیڈنگ پلان (اپریل 2026): thenews.pk
- The News، دس گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ والے فیڈرز (فروری 2026): thenews.pk
- APP، لاسز کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی پالیسی (فروری 2026): app.com.pk
- PowerHouse Express، ہائبرڈ انورٹرز کی لسٹنگ: powerhouseexpress.com.pk
