نئی آٹو پالیسی 2026–31: ڈرافٹ کہاں تک پہنچا، اور گاڑی خریدنے والے کے لیے کیا بدلا

Read this guide in English

سرورق پر بڑے ہندسوں میں 2026–31 لکھا ہے، نیچے: وزیراعظم کا منظور کردہ ڈرافٹ، ابھی قانون نہیں۔ عنوان: نئی آٹو پالیسی اور گاڑی کا خریدار۔ ساتھ بجلی کی کڑک کا نشان

وزیراعظم شہباز شریف نے 20 اکتوبر کو Automotive Industry Development and Export Policy 2026–31 کے حتمی ڈرافٹ کی منظوری دی۔ "Pakistan approves auto policy 2026–31" جیسی سرخیوں سے لگا کہ گاڑی خریدنے کے قواعد بدل گئے ہیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ 5 نومبر 2026 تک نئی آٹو پالیسی کے اس ڈرافٹ کو IMF، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ سے گزرنا ہے، اور اس کی کوئی شق نافذ نہیں۔

الیکٹرک، ہائبرڈ یا پیٹرول گاڑی کی بکنگ رقم دینے والے ہیں تو انوائس ابھی پرانے قواعد پر ہی بنے گی، چاہے ڈیلر کچھ بھی کہے۔ ڈرافٹ سیلز ٹیکس، ڈیوٹی، کار لون اور لیوی بدلنے کی بات کرتا ہے، مگر سب ابھی کاغذ پر ہے۔

نئی آٹو پالیسی 5 نومبر 2026 تک کہاں کھڑی ہے

وزیراعظم نے منگل 20 اکتوبر کو حتمی ڈرافٹ کی منظوری دی۔ وزیراعظم ہاؤس نے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، اور تفصیلات سرکاری ذرائع سے اخبارات تک پہنچیں (Dawn، اکتوبر 2026)۔ Express Tribune کے مطابق اب یہ ڈرافٹ IMF کو جائے گا، اور IMF اور کابینہ کے بعد بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش ہو گا (Express Tribune، اکتوبر 2026)۔ 23 اکتوبر کو Arab News کے مطابق Engineering Development Board کے سربراہ نے کہا کہ ڈرافٹ "چند دنوں میں" IMF کو جائے گا، اور اخبار نے لکھا کہ کابینہ کا مرحلہ باقی ہے (Arab News، اکتوبر 2026)۔

سب سے تازہ ٹھوس خبر نومبر کے شروع کی ہے، جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت کو بتایا گیا کہ ڈرافٹ پہلے وزارتِ خزانہ اور پھر IMF کے پاس جائے گا، اور پالیسی ابھی حتمی فیصلے کی منتظر ہے (Minute Mirror، نومبر 2026)۔ کابینہ یا ECC سے پاس ہونے، IMF کی ہاں، کسی نوٹیفکیشن یا بل کی کوئی خبر ہمیں نہیں ملی۔

تو اکتوبر کی سرخیوں میں "approved" کا مطلب بس اتنا ہے کہ وزیراعظم نے ایک ڈرافٹ پر دستخط کیے (Dunya News، اکتوبر 2026؛ ARY News، اکتوبر 2026)۔ اس دوران پرانی 2021–26 پالیسی 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ ابھی کچھ نہیں آیا (Arab News، اگست 2026)۔

چیک لسٹ، 5 نومبر 2026: ہو چکا، 9–10 ستمبر کو وزیراعظم کی اصولی منظوری اور 20 اکتوبر کو حتمی ڈرافٹ کی منظوری؛ باقی، وزارتِ خزانہ و IMF، کابینہ، منی بجٹ یا فنانس بل، پارلیمنٹ، نوٹیفکیشن اور SRO
وزیراعظم والے دو مرحلے ہو چکے۔ پانچ باقی ہیں، اور ڈیلر کا ریٹ صرف آخری مرحلے سے بدلے گا۔

اپریل سے اکتوبر تک پالیسی میں اتنی دیر کیوں ہوئی

پالیسی کئی مہینے لیٹ ہے، اور زیادہ تر وجہ ٹیکس پر IMF سے چلنے والی بحث ہے۔

  • 22 اپریل: خبر آئی کہ کابینہ سے پہلے IMF ڈرافٹ کی جانچ کرے گی (Express Tribune، اپریل 2026)۔
  • 20 جون: IMF نے نئی توانائی والی گاڑیوں (NEV) پر وزارتِ صنعت کی 1 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز نہیں مانی۔ وہ عام شرح چاہتی تھی، اور اس کا کہنا تھا کہ مدد دینی ہے تو براہِ راست سبسڈی دی جائے (Express Tribune، جون 2026)۔
  • 9–10 ستمبر: وزیراعظم نے ابتدائی ڈرافٹ کی اصولی منظوری دی (The News، ستمبر 2026)۔
  • 2 اکتوبر: ARY نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پالیسی پر IMF سے بات چیت بے نتیجہ رہی (ARY News، اکتوبر 2026)۔
  • 8 اکتوبر: قرض پروگرام پر پاکستان اور IMF کا اسٹاف لیول معاہدہ ہوا۔ اس کے اعلامیے میں آٹو پالیسی یا الیکٹرک گاڑیوں کا ذکر نہیں (APP، اکتوبر 2026)۔
  • 20 اکتوبر: وزیراعظم کی طرف سے حتمی ڈرافٹ کی منظوری۔

ڈرافٹ میں کیا تجویز ہے

یہاں ہر بات وزیراعظم کے منظور کردہ ڈرافٹ کی تجویز ہے، جیسا کہ اخبارات میں رپورٹ ہوا۔ آج کچھ بھی لاگو نہیں، اور کئی جگہ رپورٹس میں اختلاف ہے۔

سیلز ٹیکس اور ایکسائز

الیکٹرک گاڑی والوں کے لیے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ڈرافٹ پالیسی کی پوری مدت کے لیے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر 1 فیصد سیلز ٹیکس رکھتا ہے، مقامی اسمبل ہو یا امپورٹڈ۔ رینج ایکسٹینڈر کے لیے 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ کے لیے 9 فیصد تجویز ہے۔ Express Tribune کے مطابق وزیراعظم نے 1 فیصد کی ہامی "IMF کی رضامندی سے مشروط" بھری (Express Tribune، اکتوبر 2026)۔ ARY نے سرکاری دستاویزات کے حوالے سے لکھا کہ یہ 1 فیصد 75,000 ڈالر تک کی گاڑیوں پر ہو گا (ARY News، اکتوبر 2026)۔ IMF کیا چاہتی ہے اور 18 فیصد ہونے پر قیمتیں کہاں جائیں گی، یہ ہم نے 1 فیصد ٹیکس اور IMF کی کھینچا تانی میں الگ سے لکھا ہے۔

Dawn کے مطابق 75,000 ڈالر سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی تجویز ہے (Dawn، اکتوبر 2026)۔ ایسی گاڑیوں پر آج بھی 30 یا 40 فیصد ایکسائز لگ رہی ہے (Profit، ستمبر 2026؛ The News، جون 2026)، اور کسی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ 10 فیصد اس کی جگہ لے گی یا اس کے اوپر لگے گی۔

کسٹمز ڈیوٹی

Express Tribune کے مطابق پیٹرول کاروں اور SUVs پر کسٹمز ڈیوٹی 2031 تک 15 فیصد رہ جائے گی، بغیر اضافی یا ریگولیٹری ڈیوٹی کے، اور بنی بنائی (CBU) الیکٹرک کاروں پر بھی 15 فیصد (Express Tribune، اکتوبر 2026)۔ مگر اسی رپورٹ میں NEVs کے تحت "passenger vehicles" 1 فیصد کسٹمز پر بھی لکھے ہیں، اور ستمبر کے ورژن میں The News نے 2030–31 تک CBU گاڑیوں پر انجن کے حساب سے 35 سے 115 فیصد ڈیوٹی بتائی تھی۔ ہم یہ اعداد آپس میں نہیں ملا سکے، اس لیے سلیب وار ڈیوٹی کو ابھی غیر واضح سمجھیں۔

15,000 ڈالر (تقریباً 42 لاکھ روپے) سے سستی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے پہلے دو سال کم ٹیرف کی تجویز ہے۔ شرح، 5 فیصد، صرف Express Tribune نے دی ہے۔

1,000cc سے بڑی گاڑیوں پر نئی لیوی

اکتوبر کے ڈرافٹ میں 1,000cc سے بڑی گاڑیوں پر Automotive Development Levy کی تجویز ہے۔ اس سے پانچ سال میں 232 ارب روپے سے زیادہ آنے کی توقع ہے، جو ایکسپورٹ مراعات اور صنعت کی اپ گریڈیشن پر لگیں گے (Dawn، اکتوبر 2026)۔ شرح پر بھی رپورٹس میں اختلاف ہے۔ Express Tribune نے 2 سے 10 فیصد لکھا، اور ARY نے 1,001 سے 2,000cc پر 2 فیصد اور اس سے اوپر 10 فیصد۔ ARY کے مطابق حکومت اس لیوی اور ایکسائز کی تبدیلیوں کے لیے غالباً منی بجٹ یا فنانس بل لائے گی (ARY News، اکتوبر 2026)۔ یہ FY26 کے بجٹ والی 1 سے 3 فیصد NEV لیوی (Daily Pakistan، جولائی 2025) کے ساتھ کیسے چلے گی، رپورٹس میں اس کا ذکر نہیں۔ پرانی لیوی کی تفصیل NEV پالیسی میں لیوی اور اہداف کا حساب میں ہے۔

گاڑی کا قرض

ڈرافٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑی کے لیے بینک قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے، اور مدت تین سے پانچ سال کر دی جائے گی (Dawn، اکتوبر 2026)۔ ستمبر والے ورژن میں سات سال لکھے تھے۔ جب تک اسٹیٹ بینک اپنے قواعد نہیں بدلتا، بینک پرانی حدوں پر ہی چلیں گے۔ آج کی حدوں میں قسط کیسے بنتی ہے، یہ کار لون اور ڈاؤن پیمنٹ والے صفحے پر ہے۔

اس مہینے گاڑی لے رہے ہیں تو آپ پر کیا اثر

ڈرافٹ نے ابھی آپ کی انوائس کا ایک روپیہ نہیں بدلا۔ بدلا ہے تو بس انتظار کا خطرہ۔

موازنہ، 5 نومبر 2026: الیکٹرک گاڑی، آج 30 جون 2027 تک 1 فیصد، ڈرافٹ میں IMF سے مشروط 1 فیصد اور 1 کروڑ تک قرض؛ رینج ایکسٹینڈر آج رپورٹس کے مطابق 1 فیصد اور مقامی پلگ اِن ہائبرڈ 18 یا 25 فیصد، ڈرافٹ میں 6 اور 9 فیصد؛ 1,000cc سے بڑی پیٹرول گاڑی، آج 1–3 فیصد NEV لیوی، ڈرافٹ میں 2–10 فیصد لیوی اور 2031 تک 15 فیصد کسٹمز ڈیوٹی
آج کے قانون میں آپ کیا دیتے ہیں، اور ڈرافٹ قانون بنا تو کیا بدلے گا۔

الیکٹرک گاڑی

اہل الیکٹرک گاڑیوں پر موجودہ بجٹ کے تحت 30 جون 2027 تک پہلے ہی 1 فیصد سیلز ٹیکس ہے (Profit، ستمبر 2026)، اس لیے ڈرافٹ زیادہ تر اسی کو آگے بڑھاتا ہے۔ خطرہ الٹی سمت میں ہے: IMF کی بات چلی تو کسی آئندہ فنانس بل میں شرح بڑھ سکتی ہے۔ بڑے ماڈلز کے ریٹ ہر مہینے اپ ڈیٹ ہونے والی قیمتوں کی فہرست میں ہیں۔

ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ یا رینج ایکسٹینڈر

2,000cc تک کی مقامی ہائبرڈ گاڑیاں ستمبر میں SRO 1525(I)/2026 کے تحت 18 فیصد سیلز ٹیکس پر آ گئیں (Business Recorder، ستمبر 2026)۔ رینج ایکسٹینڈر گاڑیاں رپورٹس کے مطابق آج الیکٹرک والی 1 فیصد شرح دے رہی ہیں (Gari.pk، اکتوبر 2026)، تو ان کے لیے ڈرافٹ کا 6 فیصد دراصل اضافہ ہو گا۔

پلگ اِن ہائبرڈ 1 فیصد پر نہیں ہیں، اور 2,000cc تک کی مقامی پلگ اِن ہائبرڈ پر آج کی شرح 18 یا 25 فیصد ہے، رپورٹس میں اختلاف ہے۔ PakWheels انہیں 25 فیصد پر بتاتا ہے (PakWheels، ستمبر 2026)، جبکہ Daily Pakistan (14 ستمبر 2026) اور Gari.pk انہیں 18 فیصد پر رکھتے ہیں (Daily Pakistan، ستمبر 2026؛ Gari.pk، اکتوبر 2026)۔ دونوں صورتوں میں ڈرافٹ کا 9 فیصد ان کے لیے کمی ہو گا۔ ڈیلر سے انوائس پر لگی شرح ضرور پوچھیں۔ 9 اور 6 فیصد صرف تجاویز ہیں، اور یہ شرحیں ہر ڈرافٹ میں بدلتی رہی ہیں۔ اس سال کی ٹیکس تبدیلیوں نے قیمتیں کتنی ہلائیں، یہ ہائبرڈ اور الیکٹرک کی قیمتوں پر ٹیکس کے اثر میں ہے۔

پیٹرول گاڑی

1,000cc سے اوپر کی گاڑی لے رہے ہیں تو نظر نئی لیوی پر رکھیں، کیونکہ اس کے لیے فنانس بل چاہیے اور ARY کے مطابق منی بجٹ آنے کا امکان ہے۔ جیسی لیوی رپورٹ ہوئی ہے، وہ 1,000cc سے چھوٹی گاڑی پر نہیں لگے گی۔

کن خبروں سے پتا چلے گا کہ ڈرافٹ قانون بن رہا ہے

ان چار چیزوں پر نظر رکھیں:

  1. حتمی ڈرافٹ پر IMF کا جواب، یا چوتھے جائزے کی IMF اسٹاف رپورٹ میں الیکٹرک گاڑیوں اور آٹو سیکٹر کا ذکر۔
  2. وفاقی کابینہ کا فیصلہ، جسے حکام اگست سے "قریب" بتا رہے ہیں۔
  3. لیوی اور ایکسائز والا منی بجٹ یا فنانس بل۔
  4. SRO اور اسٹیٹ بینک کا سرکلر۔ ان کے بغیر ڈیلر اور بینک آج کے قواعد پر ہی کام کریں گے۔

ویسے پانچ سال میں ٹیکس سے زیادہ فرق روز کا خرچ ڈالتا ہے۔ الیکٹرک گاڑی کی طرف جھکاؤ ہے مگر گھر پر چارجنگ نہیں، تو EVDost میں اپنا ماڈل چن کر قریبی ہوسٹ اور ایک چارج کا متوقع خرچ دیکھیں، فیصلہ اس کے بعد کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نئی آٹو پالیسی نافذ ہو چکی ہے؟

5 نومبر 2026 تک آٹو پالیسی 2026–31 نافذ نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نے 20 اکتوبر 2026 کو حتمی ڈرافٹ کی منظوری دی، مگر Express Tribune کے مطابق IMF، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے مرحلے باقی ہیں۔ کوئی نوٹیفکیشن یا SRO ہمیں نہیں ملا۔

ڈرافٹ میں الیکٹرک گاڑی اور پلگ اِن ہائبرڈ پر کتنا سیلز ٹیکس رکھا گیا ہے؟

ڈرافٹ آٹو پالیسی میں 2026–31 کے لیے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر 1، رینج ایکسٹینڈر پر 6 اور پلگ اِن ہائبرڈ پر 9 فیصد سیلز ٹیکس تجویز ہے، Dawn اور Express Tribune کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق۔ 1 فیصد IMF کی رضامندی سے مشروط ہے۔ یہ تجاویز ہیں، قانون نہیں۔

نئی پالیسی آئی تو کیا پیٹرول گاڑیاں مہنگی ہوں گی؟

ڈرافٹ میں 1,000cc سے بڑی پیٹرول گاڑیوں پر نئی Automotive Development Levy تجویز ہے، جس سے Dawn (اکتوبر 2026) کے مطابق پانچ سال میں 232 ارب روپے سے زیادہ آنے ہیں، اور Express Tribune کے مطابق شرح 2 سے 10 فیصد ہو گی۔ اس کے لیے فنانس بل چاہیے، اور 5 نومبر 2026 تک ایسا کوئی بل پیش ہونے کی خبر ہمیں نہیں ملی۔

آٹو پالیسی کو لاگو ہونے میں ابھی کتنے مرحلے باقی ہیں؟

5 نومبر 2026 تک نئی آٹو پالیسی کی کوئی تاریخِ نفاذ نہیں۔ نومبر کے شروع میں حکام نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ ڈرافٹ وزارتِ خزانہ اور پھر IMF کو جائے گا، اس کے بعد کابینہ اور پارلیمنٹ۔ ARY نے اکتوبر 2026 میں لکھا کہ ٹیکس اقدامات منی بجٹ سے آ سکتے ہیں۔

کیا الیکٹرک گاڑی کے لیے 1 کروڑ روپے تک بینک قرض ملنے لگا ہے؟

الیکٹرک گاڑی کے قرض کی 1 کروڑ روپے کی حد اور پانچ سال کی مدت ڈرافٹ آٹو پالیسی کی تجویز ہے، جو Dawn نے اکتوبر 2026 میں رپورٹ کی۔ 5 نومبر 2026 تک بینک 30 لاکھ روپے کی پرانی حد پر ہی چل رہے ہیں، اور یہ اسٹیٹ بینک کے نئے سرکلر کے بغیر نہیں بدلے گی۔

ذرائع

  • Dawn، ڈرافٹ آٹو پالیسی (اکتوبر 2026): dawn.com
  • Express Tribune، 1 فیصد سیلز ٹیکس (اکتوبر 2026): tribune.com.pk
  • Arab News، اگلے مراحل (اکتوبر 2026): arabnews.pk
  • Minute Mirror، سینیٹ کمیٹی (نومبر 2026): minutemirror.com.pk
  • Dunya News، آٹو پالیسی 2026–31 (اکتوبر 2026): dunyanews.tv
  • ARY News، IMF کی تجویز (اکتوبر 2026): arynews.tv
  • ARY News، ممکنہ منی بجٹ (اکتوبر 2026): arynews.tv
  • ARY News، بے نتیجہ بات چیت (اکتوبر 2026): arynews.tv
  • Arab News، پرانی پالیسی کی میعاد (اگست 2026): arabnews.com
  • Express Tribune، IMF کی جانچ (اپریل 2026): tribune.com.pk
  • Express Tribune، IMF کا اعتراض (جون 2026): tribune.com.pk
  • The News، اصولی منظوری (ستمبر 2026): thenews.pk
  • APP، اسٹاف لیول معاہدہ (اکتوبر 2026): app.com.pk
  • Profit، EV ٹیکس رعایت (ستمبر 2026): profit.pakistantoday.com.pk
  • The News، ایکسائز ڈیوٹی (جون 2026): thenews.pk
  • Daily Pakistan، NEV لیوی (جولائی 2025): dailypakistan.com.pk
  • PakWheels، ہائبرڈ قیمتیں (ستمبر 2026): pakwheels.com
  • Daily Pakistan، 18 فیصد والی گاڑیاں (ستمبر 2026): dailypakistan.com.pk
  • Gari.pk، موجودہ اور مجوزہ GST (اکتوبر 2026): gari.pk
  • Business Recorder، ہائبرڈ پر 18 فیصد (ستمبر 2026): brecorder.com

اپنے قریب چارجر تلاش کریں

EVDost پر پاکستان بھر میں گھروں، ہوٹلوں اور دفاتر کے چارجر موجود ہیں۔ قریبی چارجروں کی قیمتیں دیکھیں، اپنی گاڑی کے حساب سے خرچ کا اندازہ لگائیں اور ابھی چارج کریں۔

ایک ہوسٹ اپنے گیٹ پر ڈرائیور کا استقبال کر رہا ہے