الیکٹرک گاڑی کا ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن: ہر صوبے میں اصل خرچ کتنا ہے

Read this guide in English

ایک سرسبز دفتری پارکنگ میں ستون والے چارجر سے سرمئی SUV چارج ہو رہی ہے اور ایک شخص بیگ لیے پاس سے گزر رہا ہے؛ گہری سبز پٹی پر لکھا ہے: 500 روپے سالانہ، سندھ میں نجی EV کا ٹیکس، مئی 2028 تک

ڈیلر کی میز پر چالان آتا ہے تو بہت سے خریدار چونک جاتے ہیں۔ ٹوکن ٹیکس اکثر نہ ہونے کے برابر، مگر اسی کاغذ پر انکم ٹیکس کی ایک لائن لاکھوں میں۔ اور یہی گاڑی کراچی والا کزن لے تو اس کا چالان بالکل مختلف ہو گا۔

رجسٹریشن فیس اور سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس ہر صوبہ خود طے کرتا ہے، اس لیے الیکٹرک گاڑی کا ٹوکن ٹیکس اس پر منحصر ہے کہ گاڑی کہاں رجسٹر ہو رہی ہے۔ انکم ٹیکس وفاقی ہے، اور وہ مہنگی EV کو تقریباً پیٹرول گاڑی جیسا ہی سمجھتا ہے۔ نیچے نومبر 2026 تک کی صورتحال ہے۔

الیکٹرک گاڑی کا ٹوکن ٹیکس، صوبہ بہ صوبہ

جدول، نومبر 2026: پنجاب میں رجسٹریشن پر 95 اور ٹوکن ٹیکس پر 99 فیصد چھوٹ، 30 جون 2027 تک؛ سندھ میں 1,000 اور سالانہ 500 روپے، 29 مئی 2028 تک؛ اسلام آباد میں حیثیت غیر واضح؛ KP میں ٹوکن ٹیکس سے چھوٹ 30 جون 2028 تک
چار صوبے، چار قاعدے۔ ادائیگی سے پہلے چالان دیکھیں۔

سندھ: سب سے سیدھا حساب

سندھ میں فیصد کا جھنجھٹ نہیں، مقررہ فیسیں ہیں۔ صوبائی کابینہ نے 1 ستمبر 2026 کو EV پیکج دو سال کے لیے بڑھایا، جو 30 مئی 2026 سے 29 مئی 2028 تک ہے (ARY News، ستمبر 2026)۔ اس کے تحت:

  • نجی (غیر کمرشل) EV کی رجسٹریشن 1,000 روپے
  • سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس 500 روپے
  • "2,000cc کے برابر اور زیادہ" والی EV پر 5,000 روپے لگژری ٹیکس
  • دیر سے رجسٹریشن پر 1,000 روپے جرمانہ
  • الیکٹرک موٹر سائیکل پر ایک بار 500 روپے کا لائف ٹائم ٹیکس

PakWheels اور Energy Update نے بھی یہی اعداد دیے (PakWheels، ستمبر 2026؛ Energy Update، ستمبر 2026)۔

پنجاب: مفت نہیں، بہت سستا

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے صفحے کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کو رجسٹریشن فیس پر 95 فیصد اور موٹر وہیکل ٹیکس پر 99 فیصد چھوٹ ہے (Punjab Excise)۔ جون کے بجٹ میں موٹر وہیکل ٹیکس کی چھوٹ 95 سے 99 فیصد کرنے کی تجویز آئی (Profit، جون 2026)، اور یہ 1 جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک کے لیے نوٹیفائی ہوئی؛ یکمشت (lump sum) ٹیکس والی گاڑیاں اس سے باہر ہیں (Mettis Global، جولائی 2026)۔

پنجاب کے 2026–27 کے ریٹ میں زیادہ تر نجی گاڑیوں پر انوائس قیمت کا فیصد لگتا ہے: 1,001 سے 2,000cc پر 0.3 فیصد اور اس سے اوپر 0.4 فیصد (Punjab Excise؛ Profit، جون 2026)۔ BYD Atto 3 (انگریزی) جیسی 89 لاکھ 90 ہزار روپے کی گاڑی پر (PakWheels) پورا ریٹ 26 ہزار 970 یا 35 ہزار 960 روپے سالانہ ہوتا، جس کا 1 فیصد 400 روپے سے بھی کم ہے۔

رجسٹریشن فیس کا حساب بھی ملتا جلتا ہے۔ PakWheels کے 2024 کے ریٹس کے خلاصے کے مطابق نئی رجسٹریشن پر انجن سائز کے حساب سے گاڑی کی قیمت کا 1، 2 یا 4 فیصد لگتا ہے (PakWheels، جون 2024)، اور EV اس کا صرف 5 فیصد دیتی ہے۔ اسی Atto 3 پر یہ تقریباً 4 ہزار 500 سے 18 ہزار روپے کے درمیان بنتا ہے۔

پنجاب میں EV کو سبز نمبر پلیٹ بھی ملتی ہے، جون 2025 کی ایک پالیسی کے تحت (BOL News، جون 2025)۔

خیبر پختونخوا: قانون میں ریٹ، مگر فی الحال چھوٹ

KP Finance Act 2025 کے شیڈول میں الیکٹرک فور وہیلرز کے لیے پانچ بینڈز میں 2,000 سے 8,000 روپے سالانہ ریٹ ہیں، مگر ساتھ نوٹ ہے کہ 30 جون 2028 تک تمام الیکٹرک فور وہیلرز ٹوکن ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں (KP Finance Act 2025؛ Express Tribune، جولائی 2025)۔ یعنی پشاور میں نجی EV فی الحال سالانہ ٹوکن ٹیکس نہیں دیتی۔ رجسٹریشن فیس کا EV والا قاعدہ ہمیں نہیں ملا۔

اسلام آباد: سب سے الجھا ہوا

جون 2021 میں Profit نے رپورٹ کیا کہ وزارت داخلہ نے الیکٹرک گاڑیوں، بشمول فور وہیلرز، کو رجسٹریشن فیس اور موٹر وہیکل ٹیکس سے بغیر آخری تاریخ کے چھوٹ نوٹیفائی کی ہے (Profit، جون 2021)۔ رپورٹ میں علاقے کا نام نہیں تھا؛ ہم اسے اسلام آباد کا سمجھتے ہیں، جس کا ایکسائز دفتر وزارت داخلہ کے تحت ہے۔ مگر مئی 2026 کی خبروں میں اسلام آباد میں مفت رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس چھوٹ کو وہ چیز بتایا گیا جو ڈرافٹ NEV پالیسی لائے گی (Daily Pakistan، مئی 2026)۔ آج ایکسائز کا کاؤنٹر کیا مانتا ہے، اس کی ہم تصدیق نہیں کر سکے، تو ادائیگی سے پہلے پوچھ لیں۔

دو باتیں پکی ہیں۔ اپریل 2025 سے اسلام آباد میں EV پر تین بینڈز میں 2,500، 5,500 یا 10,000 روپے ٹرانسفر فیس ہے (Profit، اپریل 2025)۔ اور 1 جولائی 2026 سے Finance Act 2026 نے اسلام آباد کی زیادہ تر گاڑیوں کا ٹوکن ٹیکس انوائس قیمت کا 0.25 یا 0.35 فیصد کر دیا (TechJuice، جون 2026)۔ EV اس شیڈول میں کہاں آتی ہے، کسی رپورٹ میں نہیں ملا۔

اصل بڑی رقم: رجسٹریشن پر انکم ٹیکس

صوبائی رعایتیں انکم ٹیکس کو نہیں چھوتیں۔ رجسٹریشن پر ایکسائز دفتر سیکشن 231B کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس بھی لیتا ہے۔ Finance Act 2026 تک اپ ڈیٹ FBR ریٹ کارڈ میں بغیر انجن کیپیسٹی والی گاڑیوں کے لیے ایک ہی لائن ہے، 50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کی گاڑی پر قیمت کا 3 فیصد (FBR ریٹ کارڈ، 2026)۔ یہ لائن 2023 کے بجٹ سے چلی آ رہی ہے (Profit، جولائی 2023)۔

89 لاکھ 90 ہزار روپے کی Atto 3 پر ایکٹو ٹیکس پیئر کے لیے یہ 2 لاکھ 69 ہزار 700 روپے بنتے ہیں۔ اسی قیمت کی 1,301–1,600cc پیٹرول گاڑی 2 فیصد دیتی ہے، یعنی تقریباً 1 لاکھ 79 ہزار 800 روپے۔ مطلب یہ کہ اس قیمت پر EV زیادہ انکم ٹیکس دیتی ہے۔ ریٹ کارڈ میں 50 لاکھ سے کم کی EV کے لیے کوئی ریٹ نہیں۔ نان فائلر کا ریٹ بھی EV والی لائن میں واضح نہیں، حالانکہ پیٹرول گاڑیوں پر نان فائلر تین گنا دیتے ہیں۔

بعد کی فروخت پر 50 لاکھ یا زیادہ کی EV پر 20 ہزار روپے مقرر ہیں، جو پہلی رجسٹریشن کے بعد ہر سال 10 فیصد گھٹتے ہیں۔ پرانی EV کے لیے استعمال شدہ EV کی گائیڈ (انگریزی) بھی دیکھ لیں۔

موازنہ، پنجاب، 89.9 لاکھ روپے کی گاڑی: انکم ٹیکس EV پر 3 فیصد (2 لاکھ 69 ہزار 700 روپے)، 1,301–1,600cc پیٹرول پر 2 فیصد (1 لاکھ 79 ہزار 800 روپے)؛ ٹوکن ٹیکس تقریباً 270 بمقابلہ 26,970 روپے؛ 2 فیصد بینڈ میں رجسٹریشن فیس تقریباً 8,990 بمقابلہ 1 لاکھ 79 ہزار 800 روپے
مثال: پنجاب یہ نہیں بتاتا کہ EV کس بینڈ میں آتی ہے، اور انکم ٹیکس وفاقی ہے۔

سیلز ٹیکس الگ معاملہ ہے، جو خریداری کی قیمت پر لگتا ہے، ایکسائز دفتر میں نہیں۔ 50 kWh تک بیٹری والی کچھ مقامی اسمبل شدہ EVs پر 30 جون 2027 تک 1 فیصد ہے، تاہم IMF پورے 18 فیصد پر زور دے رہا ہے اور اکتوبر تک کسی فیصلے کی خبر نہیں تھی (Daily Pakistan، اکتوبر 2026)۔ باقی وفاقی اقدامات ہماری NEV پالیسی کی وضاحت میں ہیں۔

فارم پر cc کا خانہ، اور گاڑی میں انجن ہی نہیں

ٹیکس کے جدول انجن کے cc کے حساب سے بنے ہیں، اور الیکٹرک موٹر کا cc ہوتا ہی نہیں۔ FBR تو قیمت دیکھتا ہے، مگر صوبے یہ خلا اپنے اپنے طریقے سے بھرتے ہیں:

  • KP کے شیڈول میں بینڈ "kWh Motor Power" سے ہیں، 50 تک سے 124 سے اوپر تک۔ اس میں بیٹری کی اکائی (kWh) اور موٹر کی طاقت (عموماً kW) گڈمڈ ہیں، تو پوچھیں کہ کون سا نمبر دیکھا جائے گا۔
  • سندھ لگژری ٹیکس "2,000cc کے برابر اور زیادہ" EVs پر لگاتا ہے، مگر کسی رپورٹ میں نہیں لکھا کہ موٹر کی ریٹنگ cc میں کیسے بدلتی ہے۔
  • پنجاب کوئی پیمانہ نہیں دیتا، مگر 99 فیصد چھوٹ کے بعد وہاں بینڈ سے زیادہ اہم انکم ٹیکس ہے۔

ڈیلر کی اسپیک شیٹ ساتھ رکھیں جس پر موٹر kW اور بیٹری kWh دونوں لکھے ہوں۔

رجسٹریشن کیسے ہوتی ہے اور سالانہ ٹیکس کہاں بھریں

پنجاب۔ پنجاب کے CNIC پر لی گئی نئی گاڑی کی رجسٹریشن اب ڈیلیوری سے پہلے ڈیلرشپ کو خود کرنی ہے۔ ایکسائز نے جولائی 2026 میں کمپنیوں کو یہ ہدایت دی، Dealer Vehicle Registration System کے 102 لائسنس یافتہ ڈیلرز کے ذریعے، جو فی رجسٹریشن 2,000 روپے لیتے ہیں (PakWheels، جولائی 2026)۔ ای رجسٹریشن کارڈ ایکسائز کی ویب سائٹ سے ملتا ہے (ARY News، ستمبر 2024) اور سالانہ ٹیکس ePay Punjab ایپ سے۔

سندھ۔ رجسٹریشن ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے، سالانہ ٹیکس پورٹل taxportal.excise.gos.pk پر۔

اسلام آباد۔ PAK App ایک PSID بناتی ہے جو آپ موبائل بینکنگ سے ادا کرتے ہیں؛ یہ صرف اسمارٹ کارڈ رجسٹریشن بک پر چلتا ہے (PakWheels، جولائی 2026)۔ ONE App اور City Islamabad ایپ بھی ہیں۔

خیبر پختونخوا۔ Dastak پلیٹ فارم پر رجسٹریشن، ٹیکس اور یونیورسل نمبر پلیٹس آن لائن ہوتی ہیں (Express Tribune، فروری 2025)۔

ادائیگی کے یہ طریقے PakWheels کے جولائی 2026 کے خلاصے سے ہیں (PakWheels، جولائی 2026)۔

پانچ چیکس: چالان پر EV رعایت، 3 فیصد انکم ٹیکس، اسپیک شیٹ پر kW اور kWh، پنجاب میں ڈیلیوری سے پہلے رجسٹریشن، رعایت ختم ہونے کی تاریخ
ڈیلر کی میز پر پانچ منٹ، ایکسائز دفتر کا ایک چکر بچا سکتے ہیں۔

نمبر پلیٹ لگ گئی تو اگلی فکر چارجنگ کی ہے۔ EVDost پر ہوسٹ اپنے گھر اور کاروبار کے چارجر فی گھنٹہ ریٹ پر لسٹ کرتے ہیں، بل 10 منٹ کے بلاکس میں بنتا ہے، اور آپ سب سے سستا یا سب سے قریب چارجر چن سکتے ہیں۔ نقشہ کھولیں اور اپنا علاقہ دیکھیں۔

اگلی تجدید سے پہلے کیا بدل سکتا ہے

الیکٹرک گاڑی کا ٹوکن ٹیکس جن رعایتوں سے کم ہے، ان میں سے زیادہ تر کی آخری تاریخ ہے: پنجاب کی 99 فیصد چھوٹ 30 جون 2027 تک، سندھ کی مقررہ فیسیں 29 مئی 2028 تک اور KP کی ٹوکن ٹیکس چھوٹ 30 جون 2028 تک۔ اسلام آباد کا معاملہ نئی NEV اور آٹو پالیسیوں سے طے ہو سکتا ہے، جنہیں اکتوبر تک حتمی منظوری نہیں ملی تھی۔ اور وفاقی 1 فیصد سیلز ٹیکس IMF کے دباؤ میں ہے۔ اگر آپ الیکٹرک اور پیٹرول گاڑی کا کل خرچ ملا رہے ہیں تو ٹوکن ٹیکس کی بچت کو حقیقی مگر عارضی سمجھیں۔

تو گاڑی لیتے وقت تین کام کریں۔ انکم ٹیکس کے پیسے الگ رکھیں، کیونکہ بڑی رقم وہی ہے۔ چالان پر EV رعایت لگی ہے یا نہیں، دیکھ لیں۔ اور جس مہینے رعایت ختم ہو رہی ہے، اس کا ریمائنڈر فون میں لگا لیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پنجاب میں الیکٹرک گاڑی کا ٹوکن ٹیکس کتنا ہے؟

پنجاب میں الیکٹرک گاڑی عام موٹر وہیکل ٹیکس کا صرف 1 فیصد دیتی ہے، کیونکہ 1 جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک 99 فیصد چھوٹ نوٹیفائی ہے۔ یوں 89 لاکھ 90 ہزار روپے کی EV پر 0.3 یا 0.4 فیصد کے ریٹ سے تقریباً 270 سے 360 روپے سالانہ بنتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس پر 95 فیصد چھوٹ ہے۔

سندھ میں EV رجسٹر کروانے کا کتنا خرچ ہے؟

سندھ میں نجی الیکٹرک گاڑی کی رجسٹریشن 1,000 روپے اور سالانہ موٹر وہیکل ٹیکس 500 روپے ہے، اس پیکج کے تحت جو کابینہ نے 1 ستمبر 2026 کو 30 مئی 2026 سے 29 مئی 2028 تک بڑھایا۔ 2,000cc کے برابر یا زیادہ والی EV پر 5,000 روپے لگژری ٹیکس بھی ہے۔

کیا الیکٹرک گاڑی پر رجسٹریشن کے وقت انکم ٹیکس لگتا ہے؟

رجسٹریشن کے وقت 50 لاکھ روپے یا زیادہ کی الیکٹرک گاڑی پر سیکشن 231B کے تحت قیمت کا 3 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس لگتا ہے، Finance Act 2026 تک اپ ڈیٹ FBR ریٹ کارڈ کے مطابق۔ 89 لاکھ 90 ہزار روپے کی EV پر ایکٹو ٹیکس پیئر کے لیے یہ 2 لاکھ 69 ہزار 700 روپے ہیں، اسی قیمت کی 1.5 لیٹر پیٹرول گاڑی سے زیادہ۔

کیا اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑی ٹوکن ٹیکس سے مستثنیٰ ہے؟

اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑی شاید پہلے سے رجسٹریشن فیس اور موٹر وہیکل ٹیکس سے مستثنیٰ ہو، وزارت داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کے تحت جو Profit نے جون 2021 میں رپورٹ کیا۔ مگر مئی 2026 کی خبروں نے اس چھوٹ کو ڈرافٹ NEV پالیسی کا حصہ بتایا، اس لیے نومبر 2026 تک واضح نہیں کہ ایکسائز کیا لاگو کرتا ہے۔ ادائیگی سے پہلے کاؤنٹر پر پوچھیں۔

کیا خیبر پختونخوا میں EV پر ٹوکن ٹیکس ہے؟

خیبر پختونخوا میں الیکٹرک گاڑی 30 جون 2028 تک کوئی ٹوکن ٹیکس نہیں دیتی۔ KP Finance Act 2025 میں الیکٹرک فور وہیلرز کے لیے پاور بینڈ کے حساب سے 2,000 سے 8,000 روپے سالانہ ریٹ ہیں، مگر اس تاریخ تک سب کو چھوٹ ہے۔

ذرائع

اپنے قریب چارجر تلاش کریں

EVDost پر پاکستان بھر میں گھروں، ہوٹلوں اور دفاتر کے چارجر موجود ہیں۔ قریبی چارجروں کی قیمتیں دیکھیں، اپنی گاڑی کے حساب سے خرچ کا اندازہ لگائیں اور ابھی چارج کریں۔

ایک ہوسٹ اپنے گیٹ پر ڈرائیور کا استقبال کر رہا ہے